Posts

فکرِ معاش

Image
  اہ ل مدارس سے ایک مشورہ اور عاجزانہ گزارش (ہر مدرسہ اپنے فارغ التحصیل علمائے کرام کے معاش اور ہنرمندی کی کوشش کرے تو خاطر خواہ نتائج نکل سکتے ہیں) مدرسہ کی مثال ماں جیسی ہوتی ہے اور ماں کی سنت اور فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ تاحیات اپنی اولاد کے لئے فکر مند رہتی ہے۔۔۔ اسی لئے مدرسہ کو مادرعلمی کہا جاتا ہے کہ جس طرح ماں کی آغوش اولاد کے لئے سائبان اور رحمت ہوتی ہےاور عمر بھراپنی اولاد کو اپنی آغوش میں رکھتی ہےاسی طرح مدارس کو بھی اپنے فارغ التحصیل علمائے کرام کی خبر گیری اور معاونت کے لئے کوشاں رہنا ضروری ہے۔۔۔مادرعلمی کا حقیقی مطلب تو یہ ہے کہ مدرسہ جس طرح دورانِ تعلیم طلباء کے لئے فکرمند ہوتا ہے ان کے رہائش، کھانے پینے علاج معالجہ کے لئے ہمہ وقت فکرمند اور کوشاںہوتا ہے فراغت کے بعد بھی اپنے فضلاء کو تنہاء نہ چھوڑا جائے بلکہ ایسا نظام بنانا چاہئے کہ فضلاء تاحیات اپنے منبع سے جڑے رہیں۔۔۔ اگر جائزہ لیا جائے کہ ہر مدرسہ سے ہر سال کتنے علمائے کرام فارغ ہوتے ہیں اور فراغت کے بعد ان کے کیا حالات ہوتے ہیں۔۔۔ فراغت کے بعد کون سا مدرسہ اپنے فضلاء کے لئے فکرمند رہتا ہے اور اپنے ہر طالب علم ک...